ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات حکومت اب دلتوں کے ساتھ دیگر کمیونٹیوں کے رجحان سے پریشان

گجرات حکومت اب دلتوں کے ساتھ دیگر کمیونٹیوں کے رجحان سے پریشان

Sat, 13 Aug 2016 01:12:12    S.O. News Service

احمد آباد12اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)گجرات حکومت نے جمعہ کو تین نئے پارلیمانی سیکرٹریوں کی تقرری کی۔کولی کمیونٹی سے ہیرا سولنکی، دلت برادری سے پونم مکواااور سورت کے شہری علاقے سے پوریش مودی۔موجودہ حکومت نے ابھی دو دن پہلے ہی گجرات میں آٹھ پارلیمانی سیکرٹری بنائے تھے۔لیکن اس پر اندرونی طور پر مخالفت کے سر سنائی دینے لگے تھے۔آخر تحریک کرنے والے پٹیل کمیونٹی کونائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کے علاوہ ریاست پارٹی صدر کا عہدہ بھی ملا تھا۔قومی سطح پر ایک ہی خاندان کے دو افراد کو عہدہ نہ دینے کی دہائی دینے والی بی جے پی نے گجرات میں پرشوتم سولنکی کو وزیر مملکت بنایا تھا تو ان کے بھائی سولنکی کو اب پارلیمانی سیکرٹری کا عہدہ بھی مل گیا ہے۔کوشش ریاست میں سب سے بڑے ووٹر گروپ کولی کو ناراضگی سے بچانے کی ہے۔ترقی کی سیاست کی دہائی دینے والی بی جے پی نے 25وزراء کے باوجود 11پارلیمانی سیکرٹری بنائے ہیں۔اس ذات برادری کے تال میل بٹھانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہ اس لئے کیونکہ گجرات میں صرف دلت ہی نہیں، دیگر معاشروں کے بھی دلتوں سے جڑنے کی وجہ سے حکومت کے خلاف ایک محاذ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔احمد آباد سے اؤنا کی دلت یاترا کے پہلے دن ہی اس میں دلتوں کے ساتھ بڑی تعداد میں مسلم بھی نظر آئے تھے۔دلت تحریک کے رہنما جگنیش میوای نے صاف کر دیا کہ دلت سالمیت کے ساتھ ہی وہ پورے ہندوتو اور نسل پرست کے خلاف پیغام لیکر چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ پورا ہندوستان سال آج کارپوریٹ گروپوں کی پکڑ میں ہے۔ہندوتو، منوادی اور نسل پرست طاقتوں کی گرفت میں ہے۔اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہم لوگ یہ سوال کھڑا کریں گے کہ آزادی کے اتنے سالوں کے بعد آئین کے اقدار کا کیا ہوا؟۔ اس گجرات ماڈل میں دلتوں اور غریب کا کیا ہوا، یہ سوال ہم پورے ملک کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔پٹیل ریزرویشن تحریک کولے کر گجرات حکومت کے خلاف مہم چلانے والے دل پٹیل نے بھی دلتوں کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔اسی لئے کئی جگہ دل پٹیل سے منسلک پٹیل رہنماؤں نے بھی دلت یاترا کا استقبال کیا۔سال 1985میں ریزرویشن کی مخالفت فسادات میں ذات فسادات بھی ہوئے تھے جو بعد میں فرقہ وارانہ ہو گئے تھے۔ایسا دوبارہ نہ ہو اسے روکنے کیلئے مسلم کمیونٹی پہلے سے دلتوں کی تمام تحریکوں میں شامل رہی ہے اور حمایت کا اعلان ہو رہا ہے۔مسلم وکیل شمشاد پٹھان نے دلت مہاسمیلن میں ہی اعلان کر دیا تھا کہ پورے ہندوستان کے مسلمان ہمیشہ دلتوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور آگے بھی دلتوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔مخالفین کے بڑھ رہے اس کنبے سے موجودہ بی جے پی حکومت تھوڑی سٹپٹائی ضرورہے۔اسی لئے دو دنوں کے اندر ہی ذات مساوات نے اسے 11پارلیمانی سیکرٹری کرنے پر مجبور کر دیا۔ایسے میں گزشتہ 16سالوں میں پہلی بار بی جے پی پرذات برادی کے تال میل کا دباؤ بڑھتا نظر آرہا ہے اور ریاستی قیادت کمزورہورہی ہے۔


Share: